ہم میں سے ہر ایک خوش رہنا چاہتا ہے پھر بھی اکثریت نا خوش کیوں ہے

‏" ہم خوش کیو نہیں رہ سکتے "


ہم میں سے ہر ایک خوش رہنا چاہتا ہے پھر بھی اکثریت نا خوش کیوں ہے؟


بلا شبہ یہ بات مسلّم اور حقیقت پر مبنی ہے کہ اس کرہء ارض پر ہر انسان خوش رہنا چاہتا ہے لیکن اس کے باوجود بیشتر لوگ خوشی سے محروم ہوتے ہیں۔

اب اس کی وجہ کیا ہے؟ در اصل ہم ان چیزوں میں خوشی ڈھوڈنتے ہیں جن سے ہمیں مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملتا‛ جن سے ہمیں خوشی مل ہی نہیں سکتی۔


مثلاََ ہم میں سے ہر آدمی سمجھتا ہے کہ ڈھیر سارا پیسہ حاصل کر کے وہ خوشی اور مسرت کی زندگی بسر کرے گا لیکن حقیقی معنوں میں اگر دیکھا جائے تو دنیا میں اکثر وہ لوگ زیادہ پریشان اور ذہنی انتشار میں مبتلا ہوتے ہیں جو اچھے خاصے پیسے والے ہوتے ہیں۔


آخر کیا وجہ ہے کہ اچھا خاصا پیسہ رکھنے والے‛ ہر قسم کی عیّاشی کرنے اور اپنی من پسند کی زندگی گزارنے والے لوگ قلبی سکون سے محرومی کے باعث زندگی سے تنگ آکر خود کشی کر لیتے ہیں۔


ایک طرف ایک مالدار شخص اپنی حویلی کے ایک مخصوص شبستاں میں جہاں ان کے لئے ہر قسم کے آرام و آسائش کی چیزیں میسر ہوتی ہیں اپنے ایک قیمتی پلنگ پر بچھائے مخملی بستر میں ڈپریشن کی گولیاں کھا کر ساری رات نیند سے محرومی کے باعث کروٹیں بدلتا رہتا ہے‛ تو دوسری طرف ایک غریب آدمی اپنی جھونپڑی میں یا کہیں سرِ راہ خالص زمین کی فرش پر کسی اینٹ یا پتھر کو تکیہ بنا کر گہری نیند کے مزے لے رہا ہوتا ہے۔

معلوم ہوا کہ دولت سے ہم خوشی حاصل نہیں کرسکتے۔


لہٰذا خوش رہنے کے لئے قناعت پسند ہونا ضروری ہے۔

جو نعمتیں ﷲ تعالٰی نے ہمیں عطا کی ہیں اُن نعمتوں کی قدر کرنی چاہئے‛ اور ہر وقت ﷲ تعالٰی کا شکر ادا کرتے رہنا چاہئے‛ جو چیز ہمیں میسر نہیں اسے مشیّتِ الٰہی سمجھ کر صبر و قناعت کو اپنا شعار بنانا چاہئے۔


اس کے علاوہ دنیا میں وہ لوگ جو ہم سے زیادہ مالدار ہوتے ہیں یا بظاہر ہم سے بہتر زندگی گزار رہے ہوتے ہیں ہم انہیں دیکھ کر رشک کرتے ہیں کہ کاش ہماری زندگی بھی ان کی طرح ہوتی۔

ہمیں ایسے لوگوں کو دیکھ کر رشک کرنے کی بجائے ہمیشہ ان لوگوں کو دیکھنا چاہئے جو ہم سے زیادہ غریب ‛ تنگ دست اور لاچار ہوتے ہیں اور ان لوگوں کو دیکھ کر اس بات کا احساس پیدا کرنا کہ ﷲ تعالٰی نے ہمیں کیسی کیسی نعمتوں سے نوازا ہے جن سے یہ لوگ محروم ہیں اور اس بات پر ﷲ تعالٰی کا شکر ادا کرنا چاہئے۔


اسلام بھی ہمیںں یہی بتا تا ہے کی دنیاوی اعتبار سے ہمیں خود سے نیچے لوگوں دیکھ کر ﷲ تعالٰی کا شکر ادا کرنا چاہئے اور دینی اعتبار سے ہمیں خود سے زیادہ دیندار لوگوں کو دیکھ کر رشک کرنا اور ان سے سبقت لینے کے لئے کوشاں رہنا چاہئے۔


اس کے علاوہ ﷲ تعالٰی کو اپنا محبوب و مقصود بنا لینا دونوں جہانوں کی کامیابی اور ہر قسم کی خوشی کو حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ کیوں کہ ﷲ تعالٰی کو جب محبوب بنائیں گے تو پھر محبوب کی خوشی میں عاشق کی خوشی ہوتی ہے اور محبوب جس حال میں رکھے گا عاشق کو تسلی اور سکون ملے گا۔

بقولِ فراز:۔


یہ قناعت ہے اطاعت ہے کہ چاہت ہے فراز!

ہم تو راضی ہیں وہ جس حال میں جیسا رکھے


تحریر... انجینئرمحمد امیر عالم


‎@EKohee


7 views0 comments