کوفیوں کی بے وفائی

کوفیوں کی بے وفائی

تحریر محمد زمان

@Z_Bhatti1


ابن زیاد کی یہ دھمکی سن کر عراق کے سرداروں اور سورماؤں کو حال پتلا ہو گیا

اور سب کے سب لرزہ براندام ہوکر ہاپنتے کاپنتے قعلے کی فصیل پر آئے اور رو رو کر اپنے عزیزوں رشتے داروں اور خاشیہ برادر سے کہنے لگے کہ اللہ ہم پر رحم کرو اور حضرت مسلم بن عقیل کا ساتھ چھوڑ دو دیکھ لو ہم اس وقت ابن زیاد کی قید میں ہیں اگر تم لوگوں نے اس قلعہ کو فتح کر لیا تو تمہارے یہاں پہنچنے سے پہلے ہی ابن زیاد ہمارے جسموں کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے گا پھر یزید خاموش نہیں بیٹھے گا اس کا لشکر تمہیں روند ڈالے گا اور تمہارے ایک ایک بچے کو قتل کرکے تمہارا نام و نشان مٹا دے گا لہذا اپنے انجام پر نظر ڈالو ہمارے حال پر رحم کرو اور اپنے اپنے گھروں کو چلے جاؤ

افسوس کہ ابھی ابھی جو لشکر جناب مسلم بن عقیل کے چشم و ابرو کے اشارے پر اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دینے کے لیے تیار کھڑا تھا وہ اپنے سرداروں کی اتنی ہی تقریر سن کر منتشر ہونے لگا یہاں تک کہ جب حضرت مسلم بن عقیل نے مغرب کی نماز شروع کی تو صرف پانچ سو آدمی رہ گئے تھے جو آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہوئے لیکن جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو یہ بھی فرار ہوچکے تھے اور آپ کے نخرے نے دو بچوں کے سوا ایک آدمی بھی آپ کے ساتھ نہ تھا کوفہ کی مسجد غربت مسافرت کا علم کوئی حال پوچھنے والا نہیں حیران ہے کہ کدھر جائیں کہاں قیام کریں چوٹےچوٹے بچوں کو کہاں کہاں کھلائیں کہاں سلائیں افسوس کہ کوفہ کے اتنے بڑے شہر میں بنی ہاشم کے اتنے بڑے معزز مہمان کے لیے کوئی اپنا دروازہ تک کھولنے کے لیے تیار نہ تھا اس بے کسی و بے بسی کے عالم میں جب کہ نہ کوئی مددگار ہے نہ مونس و غمخوار بار بار آپ کو حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہا کی یاد آتی تھی اور یہ سوچ سوچ کر صدامت سے آپ کے سینے میں دل پاش پاش ہو جاتا تھا کہ ہائے افسوس میں نے امام عالی مقام کو یہ خط لکھ دیا ہے کہ چالیس ہزار جانثاروں کا لشکر تیار ہے آپ فورا کوفہ تشریف لائے یقینا جگر گوشہ رسول فرزندے بتول میرا خط پڑھ کر مع اہل وعیال کوفہ کے لیے روانہ ہو چکے ہوں گے اور یہاں کوفیوں کی بد عہدی کا یہ حال ہے کہ اناج کا ایک دانہ اور پانی کا ایک قطرہ دینا تو بڑی بات ہے کوئی بات کرنے والا بھی نہیں اور میرے ہاتھ پر اپنی جان و مال ادا کرنے کا عہد اور بیعت کرنے والے ہیں اب ابن زیاد کے ساتھ ساز باز کرکے میرے قتل کا منصوبہ بنا رہے ہیں ہائے گلشن زہرہ کا سب سے حسین پھول حسین فرزند رسول بے خبری میں کوفہ پہنچ کر ان غداروں کے نرغے میں کیسے کیسے مظالم کی بادصر صر کا نشانہ بنے گا یہ سوچ سوچ کر دل زخمی اور جگر زخمی ہو رہا تھا اسی حیرانی و پریشانی کے عالم میں آپ کو پیاس لگی سامنے ایک مکان نظر آیا طوعہ نامی ایک عورت کھڑی تھی آپ نے اس سے پانی مانگا اس نیک بندی نے آپ کو پہچانا اور نہایت ادب و احترام کے ساتھ اپنے گھر میں بٹھا کر پانی پلایا اتنے میں عبید اللہ بن زیاد نے کوفہ کے کوتوال عمر بن حریث اور محمد بن اشعث کو آپ کی گرفتاری کے لیے بھیجا ان گستاخوں کی بے ادبی پر آپ کو ہاشمی جلال آ گیا اور اپنی تلوار لے کر ان ظالموں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوگئے اور آپ کے شیرانہ حملوں سے بہت سے سپاہی زخمی ہوئے اور باز مارے بھی گئے یہ دیکھ کر کہ ہاشم کا جوان کی شمشیر بے نیام گہرے الہی کا پیغام بن کر سیکڑوں کوفیوں کو لقمہ اجل بنا ڈالے گی اور فوج کا یہ چھوٹا سا دستا ہرگز ہرگز کبھی حضرت مسلم کو گرفتار نہ کر سکے گا تو فریب کا پتلا محمد بن اشعث یہ چال چل گیا کہ امن و صلح کا اعلان کر دیا اور دست بستہ عرض کرنے لگا کہ جنگ کی کوئی ضرورت نہیں ہیں اور ہم آپ سے جنگ کے لئے نہیں آئے ہیں ہم تو صرف اس لیے حاضرخدمت ہوئے ہیں کہ آپ گورنمنٹ ہاؤس میں تشریف لے چلیں اور عبیداللہ بن زیاد سے گفتگو کر کے معاملات فرما لیں حضرت مسلم نے جب جواب دیا کہ میں بھی جنگ نہیں چاہتا اس وقت تو میں کیا جنگ کروں گا جب چالیس ہزار کا لشکر میرے ساتھ تھا اس وقت میں نے لڑنے کا ارادہ نہیں کیا اور گفتگو مصالحت کا انتظار کرتا رہا میں خود خونریزی کو پسند نہیں کرتا اور میں بخوشی ابن زیاد سے گفتگو کر کے اتمام حجت کے لیے تیار ہوں


چنانچہ یہ دونوں مکار حضرت مسلم بن عقیل اور ان کے دونوں فرزندوں کو انتہائی اعزاز و اکرام کے ساتھ لے کر قعلے کی طرف روانہ ہوئے ابن سید بد نہاد نے پہلے ہی سے اپنے سپاہیوں کو حکم دے رکھا تھا کہ ننگی تلواریں کھینچے کھڑے رہو اور جوں ہی حضرت مسلم

قلعے کے دروازے میں داخل ہوں

فوراً ہی دھوکے سے قتل کر ڈالو چنانچہ بہت ہی شقی دروازے کے دونوں جانب ننگی تلواریں لئے کھڑے تھے اور جیسے ہی حضرت مسلم بن عقیل قلعے کی پاٹک میں داخل ہوئے سفاکوں نے اچانک آپ پر حملہ کردیا آپ اس وقت ۔۔۔ربنا افتع بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیرالفاتحین کی آیت تلاوت فرما رہے تھے اور قبل اس کے کہ آپ اپنی تلوار کو نیام سے نکال کر حملہ فرمائے کسی بدنصیب نے ایسی تلوار ماری کے آپ شہید ہو گئے

ان للہ وانا الیہ راجعون

اور پھر آپ کے دونوں صاحبزادوں کو بھی ظالموں نے اپنی تیغ ستم سے شہید کر دیا

اور آپ کے مہربان میں زبان ہانی بن عروہ کو بھی قتل کر کے سولی پر لٹکا دیا اور ان سب شہداء کرام کے سروں کو نیزوں پر چڑھا کر کوفہ کوچوں اور بازار میں پھیرا گیا.


4 views0 comments