کالعدم تحریک لبیک کا دھرنا اور مارچ

کالعدم تحریک لبیک پچھلے تقریبآ دس دنوں سے ادھے پاکستان کو یرغمال بنائی ھوئی ہے۔

اپنے مطالبات منوانے کے لیے کالعدم تحریک لبیک کے کارکنان اسلام آباد کی طرف رواں دواں ہیں

دوسری طرف حکومت اپنی کوشش میں ہے کے ٹی ایل پی کے ساتھ مذاکرات بہتر طریقے سے سرانجام ھوجائیں تاکہ مزید جانی اور مالی نقصان نہ ہو۔

5 پولیس اہلکار شہید اور 42 شدید زخمی اور شو سے زیادہ مزید زخمی ہیں۔

کالعدم تحریک کے سربراہ سعد رضوی سے مقبول جان اوریا کی ملاقات میں سعد رضوی نے کچھ مطالبات رکھے جن کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔

‏ 1- سعد رضوی کی رھائی۔ 2- تحریک لبیک پر سے پابندی ختم کی جائے۔ 3- تمام کیسسز ختم کیئے جائیں۔



دھرنہ اور مارچ سے پہلے کالعدم تحریک لبیک کا مطالبہ فرانس کا سفیر نکالنا تھا۔ لیکن جب اوریا مقبول جان نے جیل میں ملاقات کی تو سعد رضوی نے کہیں بھی سفیر کا ذکر تک نہیں کیا۔


‏اطلاعات کے مطابق PMLN پنجاب میں TLP کے مظاہرین کے آڑ میں اپنی غنڈا ٹیم بھیج رہی۔ رانا ثناء اللہ نے گزشتہ رات ماڈل ٹاؤن لاہور میں میٹنگ بلائی تھی۔ منصوبے کی تفصیلات۔۔ 1- ہر MPA اور یو سی چیئرمین لوگوں کو اکٹھا کریں گے۔ 2- کرایہ پر لی گئی ٹیم کو مختلف مقامات پر بھیجیں گے

3-جہاں TLP اپنے احتجاج کا منصوبہ بنایا ہے ٹیم مظاہرین میں شامل ہوگی۔ 4- پولیس اور TLP کو مارنے کے ساتھ املاک کو نقصان پہنچائیں گے

5- نقلی لوگوں کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ وہ رینجرز حد یہ کے آرمی کے اہلکاروں کو موقع ملنے پر نہیں چھوڑیں-

انکی ٹیم میں جعلی پولیس والے شامل ھونگے.


کل جب قافلہ مظفرآباد پہنچا اور وھاں پر مارچ میں شامل کارکنوں نے جس انداز میں توڑ پھوڑ کی اس سے یہ بات کافی حد تک درست بھی لگتی ہے۔



ٹی ایل پی کے مطابق انکے بھی 140 کارکن مارے گئے ہیں۔ لیکن ابھی تک انکے نام کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ اس لیے اس وقت تک 140 لوگوں کے مرنے کا تسلیم نہیں کیا جاسکتا جب تک ان لوگوں کے نام اور شناخت ریلیز نہیں ھوتی۔


وزرا میں اس وقت شیخ رشید اور فواد چوہدری مسلسل کالعدم تحریک لبیک کے ساتھ رابطہ میں ہیں۔


43 views0 comments