نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمتہ للعالمین ہیں

قرآن کریم نے آقا صلی االلہ علیہ وآلہ وسلّم کی سیرت طیبہ کے جو پہلو اجاگر کیے ہیں اِن میں سے ایک بہت اہم خصوصیت یہ ہے

ہم نے اپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام جہانوں کے کیے رحمت بنا کر بھیجا ہے اس آیت مبارکہ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جس طرح خالق کائنات پوری دُنیا کو پالنے والا ہے اس طرح رسالت ماب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی تمام کائناتِ کے لیے شفقت محبت اور رحم و کرم کی علامت ہے اس آیت مبارکہ کا دوسرا پہلو بھی ہے

کہ جس طرح امام راغب نے ارشاد فرمایا ہے

رحمت اس رقت کا نام ہے جو اس فرد پر احسان کرنے کا تقاضا کرے جس پر رحمت کی جا رہی ہو اِس طرح خود رسولِ کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما کر اپنی رحمۃ للعالمین کو اپنی پوری انسانیت کے لیے عطیہ قرار دیا

اپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ ظلم تشدد اور جبر سے یکسر خالی تھی اپ نے اپنے اسوہ حسنہ اپنے عمل اور اپنی ہدایت سے انسانیت نوازی کو تعلیم دی اپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب انسانوں سے رحمانہ برتاؤ کیا ابو جہل کی الزام تراشیوں اور ایذا رسانیوں کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بارے میں ارشاد فرمایا

نفرت کے باوجود میں ان کو ہدایت پر لانے کی کوشش کروں گا

اپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو تمام جہانوں کے لئے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا گیا ہے اپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُمت پر خاص رحمت کا باعث تھی اپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اُمت کی بہت زیادہ فکر تھی ارشاد باری تعالیٰ ہے

تمھارے پاس ایک رسول آ گیا ہے جو تم ہی میں سے ہے تمھارا رنج و الفت میں پڑنا اس پر بہت شاق گزرتا ہے اور وہ تمہاری بھلائی کا بہت بڑا ہی خواہش مند ہے وہ مومنوں کے لیے شفقت رکھنے والا رحمت والا ہے

نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم مقروض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا قرض ادا فرمایا ضرورت کے وقت اپنے پسندیدہ عمل کو بھی ترک کے دیتے کہ کہیں اُمت پر فرض نا ھو جائے مسواک کے بارے میں ارشاد فرمایا اگر اُمت کو دشواری نا ہو ہوتی تو میں انھیں ہر نماز سے پہلے مسواک کرنے کہا حکم دیتا

سابقہ امتیں اپنی نا فرمانیوں کے سبب مختلف عذابوں میں مبتلا ہوئی کسی قوم کی صورتیں مسخ کر دی گئیں کسی پر طوفان کا عذاب آیا اور کسی کی بستی کو الٹ دیا گیا تھا لیکن حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے باوجود با برکت سے کفار مکہ باوجود اپنی سرکشی کے دُنیا میں بڑے عذاب سے محفوظ رہے

ایک دفعہ صحابہ کرام نے عرض کی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مشرکین کے لیے بدعا فرمائیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں لعنت کرنے وآلہ نہی ہوں بلکہ میں تو صرف رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں جنگ احد اور واقعہ تبوک کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کی ہدایت کی دعا فرمائی

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس ہمارے لیے جان دے زیادہ عزیز ہے اپ کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہو کر ہم دینا آخرت میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت ہر چیز سے زیادہ آنی چاھیے دعا اللہ تعالیٰ ہم کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے


تحریر۔۔۔ عمر حیات باجوہ

شہر۔۔۔ گوجرنوالہ

@Umarhayatbajwa


39 views0 comments