ناکام ہونے کی سب سے بڑی وجہ

‏تو یہ نہیں کرسکتا لوگوں کے ناکام ہونے کی سب سے بڑی وجہ۔


ایک سٹوڈنٹ تھا اس کے پیپر قریب تھے وہ اچھے نمبر لینے کے لیے بہت محنت کا رہا تھا ایک رات وہ پڑھتے پڑھتے دیر سے سویا اور اگلے دن وقت پر صبح اٹھ نہ سکا اور کلاس کے لیے لیٹ ہو گیا جب وہ کلاس روم میں پہنچا تو کلاس ختم ہو چکی تھی اور سارے سٹوڈنٹ جا چکے تھے وہ برا لائق سٹوڈنٹ تھا اسے افسوس ہو رہا تھا کہ اس کی کلاس مس ہوگی اس کی نظر بلیک بورڈ پر پڑی تو اس نے دیکھا کہ وہاں دو سوال لکھے ہوئے تھے وہ خوش ہو گیا کہ چلو کلاس تو مس ہوگئی لیکن کم از کم اسائنمنٹ تو نوٹ کرنے کو مل گئی آنے کا کچھ فائدہ تو ہوا اس نے وہ دونوں سوال نوٹ کر لئے اور گھر آ کر اسے حل کرنے میں لگ گیا بڑی محنت کے بعد بالآخر اس نے اسائنمنٹ تیار کر ہی لی اگلے دن وہ ٹیچر کے آنے سے پہلے ہی کلاس روم میں موجود تھا ٹیچر کے آتے ہی اس نے کھڑے ہو کر اسائنمنٹ ٹیچر کے ہاتھ میں تھما دی ٹیچر نے پوچھا کہ یہ کیا ہے سر یہ اسائنمنٹ ہے جو کل آپ نے دی تھی میں نے تو کوئی اسائنمنٹ نہیں دی تھی سر میں کل کلاس کے لیے لیٹ ہو گیا تھا جب میں آیا تو یہ بلیک بورڈ پر سوال لکھے ہوئے تھے میں نے ساری یہی سے نوٹ کئے تھے ٹیچر اس کی بات سن کر حیران رہ گیا وہ سوال تم نے حل کر لیے یہ تم نے کیسے کیا یہ تو ناقابل یقین ہے سر ان میں ایسی کیا خاص بات ھے تھوڑے مشکل ضرور تھے لیکن ان کو تو کوئی بھی حل کر سکتا ہے ارے یہ تو وہ سوال تھے وہ تھیورم تھے جن کو سٹیٹسٹک کی ہسٹری میں آج تک کوئی حل نہیں کر سکا سالوں سے ان کا سلوشن کوئی نہیں نکال سکا میں نے صرف سٹوڈنٹ کو یہی بتانے کے لئے ان کو بلیک بورڈ پر نوٹ کیا تھا اور تم ان کو حل کرکے لے آئے ہو یہ تم نے کیسے کیا یہ تو معجزہ ہو گیا ہے یہ تو ناقابل یقین ہے یہ ایک سچا واقعہ ہے جو 1939 میں پیش آیا تھا اس سٹوڈنٹ کا نام George dantzig تھا جو کہ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں پڑھتا تھا اور اس کے اسٹیٹسٹک کی کلاس مس ہوگئی تھی اور جو تھیورم جارج نے حل کیے تھے وہ اسٹیٹسٹک تھیورم تھے جن کو آج تک کوئی حل نہیں کر سکا تھا بڑے بڑے قابل لوگ بڑے بڑے پروفیسر ان کا حل نہیں نکال سکے تھے کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ تھیورم سالوں سے کوئی حال نہیں کر سکا تھا انہیں ایک عام سے سٹوڈنٹ نے کیسے حل کر لیا جارج نے یہ اس لیئے کرلیا کہ جس وقت جورج انہیں حل کر رہا تھا اس وقت اس کے پاس کوئی نہیں تھا اسے یہ بتانے کے لئے کہ تو یہ نہیں کر سکتا ارے یہ تو بہت مشکل تھیورم ہیں انہیں سالوں سے کوئی نہیں حل کر سکا تو تم کیسے کر لو گے اسے یہ بتانے والا کوئی نہیں تھا

زندگی میں ہم بھی جب کوئی کام کرنے لگتے ہیں کوئی کام کرنے کا سوچتے ہیں وہ آئیڈیا ہمارے ذہن میں آتا ہے تو سامنے سے چار لوگ آ جاتے ہیں ہمیں روکنے کے لیے ارے یہ آئیڈیا تو فضول ہے یہ کام تو فلاپ ہے بڑا ہی مشکل ہے تو نہیں کر سکے گا یہ یہ تجھ سے نہیں ہوگا اس کو تو فلاں نے بھی ٹرائی کیا تھا فلاں نے بھی کیا تھا بڑے قابل لوگ تھے وہ تم سے کئی زیادہ قابل تھے وہ نہیں کر سکے تھے تو تم کیسے کر لو گے تم کس کھیت کی مولی ہو

شروعات کرنے سے پہلے ہی وہ ہماری ہمت کو توڑ دیتے ہیں کسی کا اگر کوئی پورا اکسپیرئینس ہے کوئی فیل ہو گیا تھا تو کسی کو اگر ناکامی ملی تھی تو اس سے ہمارا کیا لینا دینا اس کی ناکامی کا ہماری کامیابی سے کیا واسطہ ہو سکتا ہے وہ اپنی کسی غلطی کی وجہ سے فیل ہوا ہوں ہو سکتا ہے اس وقت حالات کچھ اور ہوں ہو سکتا ہے اس کو کوئی موقع نہ ملا ہو یا اس نے موقعے سے فائدہ نہ اٹھایا ہوا اس کے ہم ذمہ دار تو نہیں ہیں وہ نہیں کر سکا تو ہم بھی نہیں کر سکتے یہ کہاں کا اصول ہے اگر آپ خود پر یقین رکھیں گے اپنے اندر کے ڈر کو ختم کریں گے اور لوگوں کی باتوں پر کان نہ دھرنا چھوڑ دیں گے تو کوئی آپ کو روک نہیں سکتا کیوں کہ جو صرف ٹھان لیتے ہیں وہ صرف اپنے دل کی مانتے ہیں یہ بات یاد رکھنا اگر آپ کو ہارنے کا ڈر ہے تو آپ ضرور ہاریں گے آپ کو جیتنے کا یقین ہے تو آپ ضرور جیتیں گے


تحریر۔۔۔ شعیب

‎@Shabi_223


15 views0 comments