میرا قصور کیا ہے؟

‏میرا قصور کیا ہے؟


یہ دردناک کہانی ہے ایک 10 سالہ بچے علی کی، ابھی وہ مشکل سے 7/8 برس کا ہوگا کہ اس کے والد نے اس کی ماں کو بوجہ آپسی چپقلش طلاق دے دی اور بچے سے سلوک اچھا نہیں کرتا تھا، بچہ سوچتا ہوگا میرا قصور کیا ہے؟ پھر تقریبا چند ماہ ہی گزرے تھے کہ اس کی ماں نے دوسری شادی کرلی اور اس خاوند کی پہلے سے ہی اولاد تھی، موجودہ خاوند نے اس بچے کو ساتھ رکھنے اور اس کا خرچہ اٹھانے سے انکار کردیا، خاوند اپنے بچوں سے تو بہت پیار و محبت کرتا تھا اور بیوی سے بھی ویسا ہی کرنے کو کہتا تھا۔


لیکن وہ ننھا معصوم بچہ منہ تکتا رہتا تھا اور دل ہی دل میں پوچھتا ہوگا کہ آخر میرا قصور کیا ہے؟ وہ انتظار میں رہتا تھا کہ اس کے ساتھ بھی کوئی پیار و محبت سے بات کرے، اسے بھی کوئی قریبی دکان پہ لے جائے اور چیزیں دلوا کر لائے لیکن اس کی یہ خواہش دل میں ہی دم توڑ جاتی تھی، ماں غریب گھر سے تھی اور اپنا دوسرا گھر بچانے کیلئے خاوند کی باتیں من و عن مانتی تھی اور اس معصوم بچے سے دوری ہی اختیار کرتی تاکہ اس کا خاوند ناراض نہ ہوجائے اور کہیں پھر طلاق کا سامنا نہ کرنا پڑجائے۔


معصوم بچہ نہ باپ کا رہا اور نہ ماں کا وہ صرف اور صرف اپنی ماں کے دوسرے سخت دل خاوند کے رحم و کرم پہ تھا جو اپنی اولاد کو طرح طرح کی چیزیں لاکر دیتا اور انہیں اپنے ساتھ باہر بھی لے جاتا لیکن اس بیچارے کی قسمت میں ایسا کچھ نہیں تھا۔ اس بچے کی خالہ نے یہ سخت رویہ دیکھتے ہوئے علی کو پالنے کا فیصلہ کرلیا اور اپنے گھر لے آئی اس کی خالہ کا تعلق بھی غریب گھرانے سے تھا کھانا، پینا و پہننا کچھ خاص نہیں تھا


محلے دار اسے نوکر کے طور پہ استعمال کرتے تھے اپنے کام کاج اس سے 5/10 روپے کے عوض کرواتے تھے اور محلے کے بچے اسے بہت مارتے تھے وہ بیچارہ نہ ماں کو آواز دے سکتا تھا نہ باپ کو اور دل ہی دل میں سوچتا ہوگا کہ میرا قصور کیا ہے؟ خالہ بھی اس سے بہت برا سلوک کرتی تھی ایک دن گرنے کی وجہ سے بچے کا سر پھٹ گیا اور اتنا پھٹ گیا کہ ٹانکوں کی ضرورت تھی


لیکن بے رحم خالہ نے اسے دوائی تک نہ لے کر دی اور زخم بالکل کھلا تھا اگر ایسا ہی اس کی اپنی اولاد کے ساتھ ہوتا تو وہ جیسے تیسے اس کا مناسب علاج کرواتی لیکن اس بچے کا قصور کیا ہے؟ باقی بچے سکول جاتے ہیں لیکن وہ محلے داروں کے کام کرتا ہےاور ڈانٹ سنتا رہتا ہے اور معاشرے کے رحم و کرم میں پل رہا ہے


ایسی بہت سی مثالیں ہمارے معاشرہ میں ملتی ہیں مردوں کو چاہیے دوسری شادی میں اپنی اولاد کے ساتھ ساتھ بیوی کی پہلے سے موجود اولاد کو بھی برابر سمجھیں اور بیوی بھی مرد کی پہلی اولاد کو اپنی اولاد سمجھے، اس کے ساتھ ساتھ معاشرہ کا بھی بہت اہم کردار ہے کہ وہ ایسے بچوں کو اپنی اولاد کی طرح سمجھیں تاکہ اللہ کی خوشنودی حاصل ہو


تحریر۔ فہد علی

Twitter: @amfahadali1

https://twitter.com/amfahadali1?s=08



36 views0 comments