‏منفی سوچ تباہی ہے. تحریر :محمد عثمان

‏منفی سوچ تباہی ہے.


منفی سوچ انسان کی شخصیت کو بھی منفی بنا دیتی ہے منفی سوچ ایک ایسا زہر ہے جو انسان کے ذہن میں گھل جائے تو اس کی شخصیت پر ایسے اثرات مرتب کرتا ہے کہ انسان کی شخصیت ہی یکسر بدل جاتی ہے اگر منفی سوچ کا باریکی سے جائزہ لیا جائے تو یہ کسی ذہنی مرض سے کم نہیں اس سوچ کے حامل افراد کسی بھی چیز، معاملات یا شخص کے بارے میں نہ ہی صحیح سوچ سکتے ہیں اور نہ ہی صحیح اندازے لگا سکتے ہیں منفی سوچ صرف دوسروں تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات منفی سوچ کے حامل شخص پر بھی مرتب ہوتے ہیں.


مشہور سائنسدان آئن سٹائن کا کہنا ہے کہ ''جو دنیا ہم نے اپنی بنا رکھی ہے وہ ہماری سوچ کی وجہ سے ہوتی ہے اپنی سوچ کو تبدیل کیئے بنا ہم اپنی دنیا کو بدل نہیں سکتے''.


اس قول کے پیش نظر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انسان کی سوچ کے اثرات کس حد تک اس کی اپنی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ منفی سوچ ایک ایسا ناسور ہے جو انسان کی صحت، دل اور دماغ کو ناقص کر دیتا ہے جس کے تحت بعض اوقات انسان ڈپریشن جیسے سنگین مرض میں مبتلا ہوجاتا ہے اور ذہنی مریض بن جاتا ہے منفی سوچ رکھنے والے افراد سماج میں قدم سے قدم ملا کر نہیں چل سکتے اپنی سوچ کے پیش نظر معاشرے سے کہیں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں.


ایسی سوچ رکھنے والے اشخاص ہر شے میں منفی پہلو ڈھونڈتے ہیں اور یہاں تک کہ اپنی سوچ کے تحت وہ مثبت شے میں بھی منفی پہلو نکال ہی لیتے ہیں ہر شے میں کوتاہیاں نکالتے ہیں اور نتیجتاً ایسے لوگ کبھی بھی کسی طور پر پر سکون اور اطمینان بھری زندگی نہیں گزار پاتے لوگوں پر نہ تو کبھی اعتبار کر پاتے ہیں اور نہ کبھی اپنے پیارے رشتوں کی اہمیت جان پاتے ہیں نہ تو کسی سے کوئی اچھائی کی توقعات ہوتی ہیں.


انہیں اور نہ ہی کسی دوسرے کی امیدوں پر ایسے لوگ پورا اتر پاتے ہیں بہت سے معاملات میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ منفی سوچ کے حامل افراد کسی پر اعتبار نہیں کر پاتے جس کے نتیجے بے حد خطرناک ثابت ہوتے ہیں. وہ اپنے خیر خواہ،دوست احباب، اپنے پیارے رشتوں کو اپنی منفی سوچ اور منفی شخصیت کی وجہ سے دور کردیتے ہیں ان سے دوری اختیار کر لیتے ہیں یہاں تک کہ ان کی ایسی سوچ کی وجہ سے ان کی ازدواجی زندگی پر بھی اثرات پڑتے ہیں۔منفی سوچ انسان کے لیے کسی اندھی گلی کی طرح ہوتی ہے جو انسان کو وہاں لا کر کھڑا کر دیتی ہے جہاں آگے پیچھے کوئی رستہ نہیں ہوتا اور نہ کوئی اپنا پھر زندگی کو چراغاں کرنے کے لیے اور رستہ دکھانے کے لیے وہاں موجود ہوتا ہے


منفی سوچ کے باعث انسان کامیابی کی سیڑھیاں چڑھنے کی بجائے خود کو ناکامیوں کی جانب دھکیلتا رہتا ہے اور زندگی میں کبھی خود اعتمادی اور حوصلہ مندی کے ساتھ آگے نہیں بڑھتا زندگی سے نا امیدی اس قدر پروان چڑھتی ہے کہ امید کہیں نہیں دکھتی اور یہ فتور منفی سوچ کے تحت پیدا ہوتا ہے ایسی سوچ والے اشخاص کی زندگی میں عدم اعتمادی کا دور ہوتا ہے اپنی زندگی میں کسی مشکلات کا اپنے عدم اعتماد کی وجہ سے مقابلہ نہیں کرسکتے اور نتیجتاً دورِحاضر سے کٹ کر رہ جاتے ہیں منفی سوچ سے انسان کبھی مثبت زندگی نہیں گزار سکتا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ منفی سوچ کسی بھی انسان کے ذہن میں آخر کو جنم کیوں لیتی ہے.


کوئی بھی انسان پیدائشی اور فطری طور پر منفی سوچ لئے ہوئے نہیں ہوتا منفی سوچ انسان کے ذہن میں بہت سارے ان چاہے، ناگوار واقعات و حادثات نا امیدی اور ناکامیوں کے بعد پیدا ہوتی ہے جو انسان کی زندگی پر اس قدر برے اثرات چھوڑ دیتے ہیں کہ پھر انسان منفی سوچ جیسے سنگین مرض کو اپنے ذہن اور شخصیت پر حاوی کر لیتا ہے.


لوگوں سے لگائی گئی امیدیں جب ٹوٹتی ہیں تو نا امیدی جنم لیتی ہے اور نا امیدی منفی سوچ کے دروازے کھول دیتی ہے، اپنوں سے ملے دکھ و رنج اور دھوکے کے بعد انسانی ذہن میں منفی سوچ کی شروعات ہوتی ہے مسلسل نا کامیابی سے منفی سوچ پیدا ہوتی ہے یہاں تک کہ دعائیں بروقت قبول نہ ہونے پر اس ذاتِ ربی سے بھی بھروسہ اٹھ جاتا ہے اور منفی سوچ ذہن میں ڈیرہ جمالیتی اور یوں انسان مایوس ہو کر اپنے پختہ ایمان و یقین کو بھی اپنی سوچ کے تحت نقصان پہنچا بیٹھتا ہے.


ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ اپنے آپ کو اس ناسور سے بچانے کیلئے ہنسی خوشی زندگی بسر کرنے کیلئے منفی سوچ کو دل سے نکال کر محبت اور مثبت سوچ کو جگہ دیں تاکہ ہمیں معاشرے کا ہر رنگ اچھا لگے.


@Usman_PTI9

https://t.co/RE1aMXYwOX




30 views0 comments