‏مقبوضہ اور آزاد کاشمیر دونوں حصوں کو ملا کر اس میں ٹوٹل 3 طبقے ہیں

‏مقبوضہ اور آزاد کاشمیر دونوں حصوں کو ملا کر اس میں ٹوٹل 3 طبقے ہیں


1۔ پرو پاکستان

2۔ پرو ہنندوستان

3۔ نیوٹرل


پرو پاکستان طبقہ چاہتا ہے کہ کاشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہو۔ پرو ہنندوستان طبقہ چاہتا ہے کہ کا شمیر کا الحاق ہنندوستان کے ساتھ ہو جبکہ نیوٹرل طبقہ چاہتا ہے کہ وہ نہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اور نہ ہنندوستان کے ساتھ بلکہ وہ کسی ملک کے ساتھ رہنے کی بجائے آزاد رہنا چاہتے ہیں


مریم صفدر نے پچھلے دنوں ایک بکواس کی جس میں اس نے کہا کہ عمران خان کاشمیر کو پاکستان کا صوبہ بنانا چاہتا ہے یہ ہم سب کی خواہش ہے لیکن جیسے مقبوضہ کاشمیر کو ہنندوستان کے آیئن میں 370 کا تحفظ حاصل تھا جس کے تحت ہنندوستان یک طرفہ طور پر کاشمیر کا سٹیس تبدیل نہیں کرسکتا بلکہ اس کے تحت کاشمیر کو ایک سپیشل اہمیت حاصل ہوگی۔۔


اسی طرح جو حصہ پاکستان کے پاس ہے اس آزاد کاشمیر کو پاکستان کے آیئن میں آرٹیکل 257 میں یہی سپیشل سٹیٹس دیا گیا اور کاشمیر پاکستان کا صوبہ تب تک نہیں بن سکتا جب تک آرٹیکل 257 کو ختم نہ کیا جائے یا آرٹیکل 257 میں تبدیلی نہ کی جائے۔


مریم صفدر کے جھوٹ بولنے کی بنیادی وجہ اس الیکشن میں دوسرے اور تیسرے طبقہ کو تحریک انصاف سے بدظن کرنا تھا تاکہ وہ تحریک انصاف کو ووٹ نہ ڈالے۔۔اسی پس منظر میں عمران خان نے یہ بیان دیا ہے۔


وہ لوگ جن کو اس بیان سے مسئلہ ہورہا ہے کہ ہم کاشمیر سے دستبردار ہوگئے ان کو چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ کی قرار داد کا متن پڑھ لیں وہ متن بھی یہی کہتا ہے کہ کاشمیر کے مستقبل کا فیصلہ ووٹنگ کے ذریعے ہی ہوگا۔


اس الیکشن میں کاشمیریوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اس الیکشن میں ووٹر کو گھر سے نکالیں کاشمیری اس کا تعلق چاہے جس مرضی پارٹی سے ہو لیکن ووٹ ڈالنے گھر سے لازمی نکلے تاکہ ٹرن آوور ریشو اس الیکشن میں زیادہ سے زیادہ ہو۔ اس کے بعد مقبوضہ کاشمیر میں مودی الیکشن کرانے کو پھررہا ہے تو اس الیکشن کی کم ترین ٹرن آور ریشو سے سارا پول خود ہی کھل جائے گا۔


تحریر عمران خان کا کشمیر کے بارے میں ریفرنڈم کا بیان


از قلم صدام حسین

‎@SAA_afridi



12 views0 comments

Recent Posts

See All