مخدومہ کائنات سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا

مخدومہ کائنات سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا


20 جمادی الثانی 18 برس قبل ہجرت

24 جولائی 604

یوم پیدائش سیدہ فاطمہ بنت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔


03 رمضان المبارک 11 ھجری

یوم وصال سیدہ فاطمہ بنت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔


اسمِ گرامی:سیدہ فاطمہ

کنیت۔ام ابیہا۔ام الحسنین۔ام الحسن۔ام الحسین۔

القاب۔آپ کے مشہور القاب میں زھرا اور سیدۃ نساء العالمین (تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار) اور بتول ہیں۔ مشہور کنیت ام الائمہ، ام السبطین اور ام الحسنین ہیں۔ آپ کا مشہور ترین لقب سیدۃ نساء العالمین ایک مشہور حدیث کی وجہ سے پڑا جس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو بتایا کہ وہ دنیا اور آخرت میں عورتوں کی سیدہ ( سردار) ہیں۔ ۔اس کے علاوہ خاتونِ جنت، الطاہرہ، الزکیہ، المرضیہ، السیدہ، سیدۃ نساء اھل الجنۃ، العذراء وغیرہ بھی القاب کے طور پر ملتے ہیں۔


سلسلہ نسب اسطرح ہے:سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا بنت سیدالانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ،بن عبد اللہ بن ہاشم بن عبدِ مناف (علیہم الرحمۃ والرضوان)۔


سیدہ فاطمہ زہرا سیدہ خدیجۃ الکبری ٰ رضی اللہ عنہا کےبطن سے پیدا ہوئیں،اور رسولِ اکرم ﷺکی سب سے چھوٹی صاحبزادی ہیں۔


سیدہ فاطمہ کی وجہ تسمیہ:

سرورِ عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:انما سمیت فاطمۃ لان اللہ تعالیٰ فطمھاومحبیھا عن النار:ترجمہ یعنی میری بیٹی کا نام فاطمہ اس لئے رکھا گیاکیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اور اس کے محبین کو دوزخ سے سے آزاد کردیا ہے۔کنز العمال،ج،12حدیث،34222)


سیدہ فاطمہ زہرا کی ولادت باسعادت20 جمادی الثانی 18 برس قبل ہجرت بروز جمعۃ المبارک ہوئی۔


ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:کہ میں نے چال ڈھال، شکل وصورت اور بات چیت میں سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی کو حضور ﷺ سے مشابہ نہیں دیکھا۔(سننِ ابو داؤد)


رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:الا ترضین ان تکونی سیدۃ نسآء اھل الجنۃ او نسآء العالمین ترجمہ: کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم سارے جہاں اور جنت کی عورتوں کی سردار ہو۔ (بخاری،1:532، مسلم جلد دوم:290)


حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا : فاطمۃ بِضعۃ منی فمن اغضبہا اغضبنی و فی روایۃٍ یرینی ما اراھا و یو ذینی ما اذا ھا فاطمہ میرے گوشت کا ٹکڑا ہے جس نے اس کو ناراض کیا اس نے مجھ کو ناراض کیا اور اضطراب میں ڈالے گی مجھے وہ چیز جو اس کو اضطراب میں ڈالے اور دوسری روایت میں ہے کہ مجھے تکلیف دیتی ہے وہ چیز جو اس کو تکلیف دے۔(بخاری ، 1:532)


حضور سید عالم ﷺ نے فرمایا ہے کہ روزِ قیامت ایک ندا ہوگی: اذا کان یوم القیامۃ نادٰی منا دیا من وّراء الحجاب یا اھل الجمع غضوا ابصارکم و نکّسوا رؤسکم حتی تمّر فاطمۃ بنت محمد صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم فتمر و معہا سبعون الف جاریۃ من حورالعین کمر البرق ترجمہ: قیامت کے دن ایک ندا کرنے والا ندا کرے گا پردہ میں سے اے محشر والو! اپنی نگاہوں کو جھکا لو اور اپنے سروں کو جھکا لو یہاں تک کہ سیدہ فاطمہ بنت محمدﷺ گذر جائیں چنانچہ سیدہ ستر ہزار حوروں کے ساتھ برق کی طرح گزر جائیں گی۔ (المستدرک ، 3:161)


حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک فرشتہ جو اس رات سے پہلے کبھی زمین پر نہ اترا تھا اس نے اپنے پروردگار سے اجازت مانگی کہ مجھے سلام کرنے حاضر ہو اور یہ خوشخبری دے کہ فاطمہ سلام اللہ علیہا اہلِ جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہے اور حسن رضی اللہ عنہ و حسین رضی اللہ عنہ جنت کے تمام جوانوں کے سردار ہیں۔


حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ میری جان کا حصہ ہے پس جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔


حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بے شک فاطمہ سلام اللہ علیہا میری جان کا حصہ ہے۔ اسے تکلیف دینے والی چیز مجھے تکلیف دیتی ہے اور اسے مشقت میں ڈالنے والا مجھے مشقت میں ڈالتا ہے۔


حضرت ابو حنظلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بے شک فاطمہ سلام اللہ علیہا میری جان کا حصہ ہے۔ جس نے اسے ستایا اس نے مجھے ستایا۔


حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنے اہل و عیال میں سے سب کے بعد جس سے گفتگو فرما کر سفر پر روانہ ہوتے وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہوتیں اور سفر سے واپسی پر سب سے پہلے جس کے پاس تشریف لاتے وہ بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہوتیں۔


ایک اور مشہور حدیث (جو حدیث کساء کے نام سے معروف ہے) کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک یمنی چادر کے نیچے حضرت فاطمہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ و حسن رضی اللہ عنہ و حسین رضی اللہ عنہ کو اکٹھا کیا اور فرمایا کہ بے شک اللہ چاہتا ہے کہ اے میرے اہل بیت تجھ سے رجس کو دور کرے اور ایسے پاک کرے جیسا پاک کرنے کا حق ہے


سن 2 ہجری میں غزوۂ بدر سے واپسی کے بعدماہِ رمضان میں مولائے کائنات سے آپ کا نکاح ہوا۔اس وقت آپ کی عمر15 سال ،اور مولا علی کی عمر 21 سال تھی۔رخصتی ذوالحجہ 2 ھجری میں ہوئی۔


حضور اکرم ﷺ کے وصال کے6 ماہ بعد 3رمضان المبارک 11ھ منگل کی رات میں آپ کی وفات ہوئی اور جنت البقیع میں مدفون ہوئیں ۔نمازِ جنازہ سیدنا صدیق ِ اکبر رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔(کنز العمال۔حدیث،42856)۔(شرح العلامۃ الزرقانی،الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام، ج4،ص342)


عالمہ ، عاملہ ، کاملہ ، عادلہ

صالحہ ، صاحبہ ، ساترہ ، سالکہ

مالکہ ، حاکمہ ، راحمہ ، عاطفہ

”سیدہ ، زاہرہ ، طیبہ ، طاہرہ

جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام“


صادقہ ، صالحہ ، صائمہ ، صابرہ

صاف دل ، نیک خو ، پارسا ، شاکرہ

عابدہ ، زاہدہ ، ساجدہ ، ذاکرہ

”سیدہ ، زاہرہ ، طیبہ ، طاہرہ

جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام“


جس کا دامن ہے سادات کا دائرہ

شاہدہ ، شاکرہ ، فاخرہ ، ناصرہ

عابدہ ، ساجدہ ، زاہدہ ، صابرہ

”سیدہ ، زاہرہ ، طیبہ ، طاہرہ

جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام“


فاطمہ دینِ اسلام کی ناصرہ

حامدہ ، خاشعہ ، کاملہ ، صابرہ

عادلہ ، عاطفہ ، ساجدہ ، ساترہ

”سیدہ ، زاہرہ ، طیبہ ، طاہرہ

جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام“


جن کا نام مبارک ہے بی فاطمہ

جو خواتین عالم میں ہیں عالیہ

عابدہ ، زاہدہ ، ساجدہ ، صالحہ

”سیدہ ، زاہرہ ، طیبہ ، طاہرہ

جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام“


اس کی عظمت کا ہے کب کسی کو پتہ

کب کسی پر عیاں اس کا ہے مرتبہ

جس کی خاک قدم سرمۂ چشمِ مَہ

”سیدہ ، زاہرہ ، طیبہ ، طاہرہ

جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام“


وجہِ تسکینِ قلبِ شہِ دو سَرا

راضیہ ، عابدہ ، ساجدہ ، شاکرہ

صابرہ ، زاہدہ ، صادقہ ، ذاکرہ

”سیدہ ، زاہرہ ، طیبہ ، طاہرہ

جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام“


قدسیوں کی در سیدہ بوسہ گہ

جس کی پاکی کی کھائیں قسم مہر و مہ

جس کا فیض جُدا اور بڑا مرتبہ

”سیدہ ، زاہرہ ، طیبہ ، طاہرہ

جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام“


صالحہ ، صادقہ ، صائمہ ، صابرہ

فاطمہ ، کاملہ ، زاہدہ ، ذاکرہ

نورِ چشمِ نبی ، عابدہ ، شاکرہ

”سیدہ ، زاہرہ ، طیبہ ، طاہرہ

جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام ///


تحریر (عمر حیات باجوہ)

@UmarHayatBajwa


11 views0 comments