لال قلعہ پر سرسری نظر

لال قلعہ پر سر سری نظر


تحریر: محمد صابر مسعود


دریائے جمنا کے نزدیک واقع لال قلعہ مغلیہ سلطنت کی ایک عظیم یادگار ہے

اسے سترویں صدی میں پانچویں مغل بادشاہ شاہجہاں نے تعمیر کرایا تھا۔ اسی قلعے کے دیوانِ خاص میں تخت طاؤس واقع ہے جہاں بیٹھ کر مغل بادشاہ ہندوستان کے طول و عرض پر حکومت کرتے تھے۔ یہ قلعہ مغل بادشاہوں کی مستقل سکونت کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے لال قلعہ پر ہر سال 15 اگست کو یوم آزادی اور 26 جنوری کو یوم جمہوریہ منایا جاتا ہے جسمیں ہر خاص و عام شرکت کرکے مسرت و شادمانی کا ثبوت پیش کرتا ہے اور ہندوستان کا وزیر اعظم لال قلعہ کی فصیل سے ہندوستانی ترنگا جھنڈا لہرا کر، خطاب کرتے ہوئے مجاہدین آزادی پر سر سری نظر ڈالتا ہے کہ جنگ آزادی میں انکا کیا مقام رہا ہے اور جنگ آزادی میں کیا کارنامے انجام دئے ہیں۔

غدر کے دوران انگریز فوج نے دہلی پر قابض ہونے کے بعد اس وقت کے مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو قلعے سے نکل جانے کا حکم دے کر انہیں شہر کے جنوب میں واقع قطب مینار کے احاطے میں منتقل کر دیا تھا۔

سنہ 1857 سے لے کر سن 1947 تک لال قلعہ پر برطانوی فوج قابض رہی اور اس میں انہوں نے اکثر ہندوستانی قیدیوں کو قید رکھا۔ آخر یہ ظلم کب تک جاری رہتا، کب تک ہندوستانیوں کو غلام بنا کر رکھا جاتا، کب تک ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے جاتے، ایسے وقت میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اٹھے اور انگریز کے خلاف نعرۂ جہاد بلند کرتے ہوئے مردانہ وار حملہ کردیا۔ بالآخر خدا کے حکم سے سنہ 1947 میں یہ ملک غاصب انگریز کے چنگل سے آزاد ہوگیا۔

آزادی کے بعد لال قلعہ کے بیشتر حصے ہندوستانی فوج کے قبضے میں آ گئے اور یہاں سنگین نوعیت کے مجرموں کو رکھنے کے سیل بھی بنائے گئے۔

قلعے کے دو دروازے ہیں جن میں سے ایک دہلی دروازہ ہے جو عوام الناس کے لئے استعمال ہوتا تھا جبکہ دوسرا لاہوری دروازہ کہلاتا ہے جس کو شہر لاہور کی نسبت سے یہ نام دیا گیا تھا ۔ جب یہ قلعہ تعمیر کیا گیا تھا اس وقت دریائے جمنا اس کی عقب کی دیواروں کو چھوکر گزرتا تھا لیکن اب وہ کچھ فاصلے پر بہتا ہے۔


2001میں تنظیم لشکر طیبہ( جو افغانستان میں روس کے خلاف جہاد میں وجود میں آئ ) کے دو ارکان نے لال قلعہ پر حملہ کر دیا تھا، جس میں درجن بھر بھارتی فوجی ہلاک ہوئے اور مجاہدین نے قلعہ کی فصیل پھلانگ کر راہ فرار اختیار کر لی تھی۔ جس کے بعد دسمبر 2003 میں اس قلعے کو مکمل طور پر فوج نے خالی کر کے آثار قدیمہ کے محکمے کے حوالے کر دیا تھا۔ 2007ء میں لال قلعہ کو عالمی اثاثوں کے لیے اقوام متحدہ کی تنظیم برائے ثقافت، یونیسکو کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔


تحریر: محمد صابر مسعود


@sabirmasood_

2 views0 comments