سیاست قومی مشغلہ

Updated: Jun 14, 2021



حقیقی سیاست ویسے تو عبادت ہے کیونکہ حقیقی سیاست میں عوام کی خدمت کی جاتی ہے پاکستان کا ہر شہری خواہ وہ مزدور ہو چھابڑی والا ہو حمام والا ہو سبزی والا ہو گاڑی والا ہو پرائیویٹ ملازم ہو یا سرکاری ملازم حتی کہ تمام قومی ادارے اور کوئی عبادت کریں نہ کریں لیکن اس عبادت میں ضرور مصروف ہوں گے


کوئی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک اس کے ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام نہ کریں


ستر کی دہائی میں پاکستان بہت تیزی سے ترقی کر رہا تھا اس وقت تک پاکستان کے سیاستدانوں میں حقیقی سیاست یعنی عوامی خدمت کا جذبہ تھا لیکن اس کے بعد بھٹو اور نواز شریف کی پارٹیاں معرضِ وجود میں آ گئیں پھر کیا ہوا اس سے آپ سب واقف ہیں ان دونوں کی پارٹیوں نے قومی اداروں میں سیاست کا ایسا رنگ گھولا کہ ہر ادارہ آئینی ذمہ داریوں کو چھوڑ کر سیاست میں مصروف ہوگیا

ان پارٹیوں نے ہر ادارے میں سیاسی بھرتیاں کیں جس کی وجہ سے تمام ادارے سیاست میں ملوث ہو گئے اور یوں ادارے تباہی کی طرف گامزن ہو گئے


اسٹیل میل تباہ ہوئی سیاست کی وجہ سے پی آئی اے تباہ ہوئی سیاست کی وجہ سے

پاکستان پوسٹ کا ادارہ تباہ ہوا سیاست کی وجہ سے اس طرح تمام قومی ادارے سیاست کی وجہ سے تنزلی کا شکار ہوگئے


عدلیہ کی بات کروں تو سیاست کیوجہ سے آج عدلیہ خود انصاف کی طلبگار ہے


فوج کی بات کروں تو آج فوج جیسا مقبول ترین ادارہ سیاست کی وجہ سے بدنام بھی ہو چکا ہے


وہ فوج جس کے شہداء کے خون کو قوم کی زکوۃ کہتے ہیں اس کو سیاست کے جاہلانہ نعرے جیسا کہ "یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے" کا سامنا کرنا پڑتا ہے


مختصراً یہ کہ سیاست ایک قومی مشغلہ بن چکا ہے جس کی وجہ سے پاکستان معاشرتی ترقی کی منازل طے کرنے کی بجائے معاشرتی تنزلی کی طرف جا رہا ہے


اور المیہ تو یہ ہے کہ جب بھی سیاست کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے تو عوام اس کو ہمیشہ منفی تناظر کے طور پر استعمال کرتے ہیں حالانکہ سیاست مثبت پہلوؤں کے ساتھ ساتھ عبادت اور عوامی خدمت کا نام ہے جیسا کہ اقبال نے کہا تھا


"جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی"


تحریر: صداقت حسین علوی


Twitter @alviinfo2



16 views0 comments

Recent Posts

See All