بد گمانی ایک زہر ہے

‏*بدگمانی ایک زہر ہے*


تبلیغ جماعت والے گشت کررہے تھے کہ ایک صاحب کو گھر میں داخل ہوتے ہوٸے دیکھا تبلیغی جماعت والے بھی اس کے پیچھے گٸے اور دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک بچہ باہر آیا تبلیغی جماعت کے امیر صاحب نے کہا کہ فلاں صاحب گھر پر ہے جو اب ہمارے سامنے گزرگٸے بچے نے کہا میں دیکھتا ہوں بچہ گھر گیا اور باہر آکر کہا وہ گھر پر نہیں ہے،امیر صاحب کو اندازہ ہوا کہ اب تو سب کو بدگمانی ہوگی تو کہا کہ دیکھو پیچھے بھی دروازہ ہے شاید وہ گھر آیا ہو اپنی ضرورت پورا کرکے پھر کسی کام کے لیے گیا ہو۔

تو غور کریں تبلیغی جماعت کے امیر صاحب نے کتنا اچھا گمان کیا۔ہمیں بھی چاہیے کہ ہر کسی پر اچھا گمان کرنا چاہیے۔آج کل بہت سے لوگ دوسروں کے برے میں بدگمانی کا شکار ہوجاتے ہیں۔

کسی بات کی تحقیق کٸے بغیر کسی شخص کے بارے میں کوٸی برا خیال قاٸم کرلینا کہ اس نے شاید ایسا کیا ہوگا یہ بدگمانی ہے۔اپنی طرف سے کسی شخص کے بارے میں کوٸی خیال گھڑلینا ،یا معمولی سی بات کسی کے اندر نظر آٸی اور اس پر اپنی طرف سے ہواٸی قلعے تعمیر کرلینا اور اوراس کے بارے میں بدگمانی میں متبلا ہونا گناہ ہے۔جب تک کسی کے بارے میں کوٸی بات دلاٸل کے ساتھ آنکھوں سے مشاہدہ کرکے ثابت نہ ہوجاٸے تو اس وقت تک ہمیں کسی کے کےبارے میں کوٸی برا گمان نہیں کرنا چاہیے۔

معاملات میں بھی ہم بغیر تحقیق کے لوگوں پر بدگمانی کرتے ہیں۔کوٸی ہمارا فون نہ اٹھاٸے تو ہمیں یہ گمان نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتا ہے اس لیے اب ہمارا فون بھی نہیں اٹھاتا،ہوسکتا ہے وہ کسی کام میں مصروف ہو اس میں بہت احتمالات ہوسکتے ہیں۔اسی طرح اگر کسی کے پاس آپ نے دیکھا کہ بہت ذیادہ روپے پیسے ہیں تو یہ گمان نہیں کرنا چاہیے کہ حرام کا پیسہ ہے،حرام خوری کرتا ہے تو یہ بدگمانی ہے۔

بدگمانی ایک زہر ہے جب آدمی اس میں مبتلا ہوجاتا ہے تو اسے ہر آدمی چور،بےایمان،بدفطرت اور بدکردار دکھاٸی دینے لگتا ہے۔

عربی کا مقولہ ہے:

سوء الظن مرض یقتل کل شیی جمیل

”بدگمانی ایک ایسا گناہ ہے جو ہر چیز کی خوبصورتی کو ختم کردیتی ہے“

ابن ابی الدنیا کی کی کتاب ”حسن ظن باللہ“میں آیات اور احادیث کے 150 نصوص پیش کٸے گٸے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ لوگوں پر نیک گمان رکھیں اور بدگمانی سے بچیں۔

اس لیے ہمیں بدگمانی سے بچنا چاہیے۔بزرگوں کا فرمان ہے کہ بدگمانی ایک ایسا گناہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کسی پر براٸی کا الزام لگاٸے ہیں اور یہ براٸی کا الزام قیامت کے دن ثابت کرنا ہوگا۔لہذا بدگمانی سے پہلے ہمیں یہ سوچ لینا چاہیے کہ یہ بدگمانی مجھے قیامت کے دن ثابت کرنی ہوگی۔یہ بدگمانی خواہ کسی رشتہ دار کے بارے میں ہو،یا عام انسان کے بارے میں ہو،یا کسی عالم کے بارے میں ہو۔

اور یاد رکھنا چاہیے بدگمانی ایک ابتداء ہے جس کی انتہاء غیبت اور بہتان پر ہوتی ہے۔

اللہ تعالی ہمیں بدگمانی سے بچنے کی توفیق عطا فرماٸیں۔


تحریر انجینئرمحمد امیر عالم


‎@EKohee


15 views0 comments