احساس کمتری اور شکریہ

موضوع۔۔۔ احساس کمتری اور شکریہ۔۔


اکثر لوگوں کو دیکھا گیا ہے کے وہ بات بات پر شکایت کرتے ہیں۔

کسی کو اعتراض ھوتا ہے ھمارے پاس کار کیوں نہیں،

کوئی کہتا کے مجھے یہ نوکری پسند نہیں۔

کوئی کہتا یہ گھر مجھے پسند نہیں۔

کوئی کہتا کے میرے کپڑے اچھے نہیں۔

کسی کو گرمی پسند نہیں تو کسی کو سردی۔

کسی کو شکایت ھوتی کے آج کھانا اچھا نہیں پکا۔

کسی کو اپنے کالے رنگ سے شکایت۔

تو کسی کو اپنے گھونگریالے بال پسند نہیں۔

کسی کو سیدھے بالوں سے چڑ۔

تو کسی کو چھوٹے قد کا ملال۔

تو کسی کو موٹی ناک یا پتلے ھونٹوں کا ملال۔

کوئی نصیب کا رونا روتا تو کوئی تقدیر کا۔۔


کوئی بھی خوش نہیں، جو دیکھتے ہیں وہ ہوتے نہیں، اندر کہیں نہ کہیں کوئی کمی ضرور ھوتی ہے۔۔


کچھ لوگ اس محرومی کے اس حد تک شکار ھو جاتے کے اندر اندر گھلنے لگتے ہیں۔

کچھ لوگ دوسروں سے حسد کرنے لگتے ہیں۔

کچھ لوگ دل ٹوٹے مجنوں بن جاتے ہیں۔

کچھ غلط طریقوں سے اپنی محرومی ختم کرنے کی کوشش کرنے لگتے۔


اکثر دیکھا گیا ہے کے محرومی کا شکار انسان منفی سوچ کا مالک ھو جاتا ہے۔


اب آتے ہیں اس کے حل کی طرف۔۔۔۔

اللہ نے سب انسان کو ایک ایک ہی انداز میں پیدا کیا۔


ہر کسی کے کے نصیب میں کچھ نہ کچھ لکھا، کسی کو بےیارومددگار نہیں چھوڑا۔


اگر ھم بات کریں جسمانی احساس کمتری کی، جن لوگوں کو کالا ہونے، چھوٹا قد ھونے یا بہت زیادہ خوبصورت نہ ھونے کا ملال ہے۔


انہیں جب اس طرح کی محرومی کا احساس ھو تو، زرا ان لوگوں پر نظر ڈال لینی چاھیے، جن کے ہاتھ یا پاوں نہیں ہوتے، جو دیکھنے سے محروم ھوتے یا کسی ایسی بیماری کا شکار ھوتے کے خود ہر چیز کے لیے دوسروں کے محتاج ھوتے۔ اس وقت اپکو خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کے اس نے ھمیں چلنے پھرنے کے لیے ہاتھ پاوں دیئے،

سننے کے لیے کان دیئے،

دیکھنے کے لیے آنکھیں دی،

رنگ، قد یا خوبصورتی ہی سب کچھ نہیں ہوتی، اپکے ہاتھ، پاوں، انکھ، ناک، کان اور دماغ سے بڑھ کے کچھ نہیں۔


اگر خدانخواستہ اللہ نے یہ سب ہمیں نہ دیا ھوتا تو کیا؟؟؟


اسلیے اللہ کا شکر ادا کرنا سیکھیں اور جب بھی دل میں کوئی برا خیال آئے تو اس وقت ان لوگوں کو یاد کر لیا کریں جو ان سب چیزوں سے محروم ہیں، جو آج آپ کے پاس ہے پر دوسروں کے پاس نہیں۔۔۔

اسی طرح اب آتے ہیں مادی کمتری کی طرف۔


اپنے گھر یا کھانا کی شکایت کرنے سے پہلے ایک بار ان لوگوں کے بارے میں ضرور سوچ لیا کریں کے، اس دنیا میں کئی لوگ ایسے ہیں، جن کو ایک وقت کھانا بھی نصیب نہیں، سارا دن محنت کرتے ہیں تو ایک وقت کا کھانا کھاتے ہیں۔


اسی طرح کتنے ہی لوگ ہیں جو سڑکوں پر سوتے ہیں، جن کے پاس اپنا جسم چھپانے کے لیے کپڑے تک نہیں ہوتے، جو ہماری اترن لے کے بہت خوش ھو جاتے ہیں۔


سردی، گرمی، بارش، دھوپ ہر طرح کے موسم میں وہ یا تو کسی جھونپڑی یا کھلے آسمان کے نیچے گزار دیتے ہیں۔


اپنی ہر چیز جو اپکے پاس ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا سیکھیں۔

یقین مانیں اگر ھم نے ایک بار شکر ادا کرنے کی عادت ڈال لی تو ہم کبھی ناخوش نہیں ہونگے۔


اگر زندگی میں کبھی بھی کسی بھی بات پر احساس کمتری ہو تو ھمیشہ اپنے سے نیچے والے لوگوں کو دیکھو، خودبخود خدا کا شکرادا نہ کرنے لگو گے۔۔


اور آگے بڑھنا ہو تو کامیاب لوگوں کو دیکھو، ہر بندہ محنت کر کے اپنا مقام بناتا ہے۔ حسد یا غصہ کرنے کے بجائے، اپنی محنت سے اس چیز کو حاصل کرنے کی کوشش کریں، اللہ تعالی نے بھی کہا ہے کے ہر کسی کے لیے رزق لکھا ہے تلاش تمہیں کرنا ہے، بغیر محنت کے منزل نہیں ملتی۔۔


اس کی مثال بچپن میں ایک چونٹی کی کہانی سے دونگی۔

ایک چونٹی اپنے بچوں کے لیے کھانا آٹھا کے دیوار پر چڑھنے کی کوشش کر رہی تھی۔

ایک بار کوشش میں گری، اسی طرح بار بار کوشش کرتی رہی اور گرتی رہی، اور بالآخر ساتویں بار وہ اپنے مقام پر پہنچ گئی۔


کہنے کا مقصد یہ تھا کے جب ایک چیونٹی ہمت نہیں ہاری تو ھم تو انسان ہیں، اگر وہ چونٹی ھمت ہار جاتی تو اسکے بچے بھوکے رہ جاتے۔ پر محنت، ہمت اور لگن ہو تو ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے۔۔۔


دنیا میں ایسے بھی لوگ ہیں جو کچھ نہ ہونے کے باوجود خوش رہتے ہیں، ایک بیساکھی پکڑا شخص بھی خوش دیکھتا ہے، ایک بینائی سے محروم چھڑی ہاتھ میں پکڑے چلتا ھوا خوش دیکھتا ہے، اسی طرح ایک گلی میں بھیک ماننگنے والا بھی خوش ہے۔ جب یہ سب خوش رہ سکتے ہیں تو ھم کیوں نہیں۔۔۔


کیونکہ وہ جو انکے پاس ہے اس پر ہی خدا کا شکر ادا کرتے ہیں۔۔۔

اپنے اطراف چیزوں اور لوگوں میں اپنی خوشی تلاش کرنا سیکھیں۔

ایک اور آخری بات اللہ کو بھی شکر ادا کرنے والے لوگ پسند ہیں۔ ھم دوسروں کا شکریہ تو ادا کرتے ہیں، نوکری پر بات پیچھے باس کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔


کیا ھم نے کسی غریب یا محتاج شخص کا اس سے کام لینے کے بعد شکریہ ادا کیا؟؟؟


گھر میں آمی نے روٹی پکا کے کھیلائی تو کیا کبھی آمی کو کہا کے شکریہ آمی کھانا بہت اچھا تھا۔

شکریہ ایک ایسا لفظ ہے جو ھم میں عاجزی پیدا کرتا ہے۔


ہر اس بات پر جو اپکے پاس ہے اس پر شکریہ ادا کرنا سیکھیں، پھر دیکھیں دنیا خودبخود خوبصورت لگنے لگی گی۔


تحریر:::::: محمد کامران @kaamm_iii


13 views0 comments