ابلیس کا کاروبار

‏ابلیس کا کاروبار ۔۔


شیاطین کی انٹر نیشنل کانفرنس کچھ دیر تک شروع ہونے والی ہے دور دراز سے اور ہر ملک سے جنات جوق در جوق شامل ہو رہے ہیں اس انٹر نیشنل کانفرس کی سب سے بڑی حیرانی یہ ہے کہ جنات کا سب سے بڑا امیر اس کانفرنس سے خطاب کرے گا یہ امیر ہر سو سال بعد ایک بڑے اجتماع سے مخاطب ہوتا ہے اور خطابت کے بعد پھر سو سال نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے اس لیے آج کا اجتماع شیاطین کے لیے بہت اہم ہے کروڑوں شیاطین اپنے محبوب کی جھلک دیکھنے کے لیے بےتابی سے اجتماع کیطرف رواں دواں ہیں پھر اپنے امیر کی وعظ و نصیحت کو اپنے پلو باندھ کر اس پر عمل ہر صورت کرتے ہیں چاہیے اس کی خاطر خون کی ندیاں بھی بہانی پڑ جائیں اس لیے کچھ انسانوں کی دنیا میں بھی گروپ اس بڑے اجتماع میں شریک ہو رہے ہیں ۔ جو اس ابلیسی خطاب سے اپنی سماعتوں کو تسکین دیں گے ۔۔


آئیے شیاطین کے امیر کی بارعب اور گرج دار آواز میں اس کا خطاب سنتے ہیں ۔۔


میرے کارندوں آپ جانتے ہیں کہ پچھلہ سو سالہ ہدف جسطرح نے کامیابی سے طے کیا ہے اس کی کارکردگی پر میری آتما بہت خوش ہے۔ جس طرح آپ نے اسلام میں فرقہ پرستی کو ہوا دی اور مسلمان کو مسلمان سے دور کیا اس کی اب مثال نہیں ملتی اور اس کی اور کامیابی کیا ہو۔ ایک ہی اللہ اور ایک رسول اور ایک قرآن رکھنے والے ایک دوسرے کے دشمن ہیں وجہ صرف آپکی بھڑ کائی ہوئی فرقہ پرستی کی آگ ہے ۔ہمیں اگر ڈر ہے تو صرف اسلام سے ہے اور یہی وہ اسلام ہے جو ہماری ابلیسی پالیسی میں رکاوٹ ہے۔ اس لیے اس آگ کو مزید تیز کر کے اسلام کو منتشر کر دو لیکن آج کے اس بڑے اجتماع سے خطاب کرنے کا مقصد یہ لے کر آیا ہوں کہ اب آپ نےمزید اسلام کو کیسے کمزور کرنا ہے تاکہ اس کا نام بھی مٹ جائے کیونکہ ہماری فرقہ پرستی کا مشن مکمل ہو چکا ہے اور اسلام کی نئی نسل ہماری اس پالیسی سے خوب واقف ہو گئ ہے ۔نئے نوجوان دوسرے کے مسلک کو ادب سے دیکھتے ہیں اس لیے مجھے نئ پالیسی کا اعلان کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ ہم نے اگلے سو سالہ کا سوچنا ہے کہ اسلام کے مقلدین کی کیسے دھجیاں اڑانی ہیں یہی وہ دین ہے جو مضبوط ہو گیا تو ہماری دھجیاں اڑا دے گا۔ کیونکہ دوسرے مذاہب کو ہم نے جس طرح بے منزل راہوں کا مسافر بنایا ہے اس کی مثال دینا مشکل ہے ۔۔


سنو میرے پیرکارو ۔۔


اسلام کے سینے میں مضبوط ترین اگر کوئی چیز محفوظ ہے تو وہ شرم و حیا اگر آج اسلامی تہزیب زندہ ہے تو اسی خوبی کی وجہ سے ہے۔ پچھلی صدی میں ہم نے یورپ میں عورت کا استعمال کر کے یورپ کا خاندانی اور معاشرتی نظام تباہ کیا اب دیکھو وہاں ماں بہن اور بھائی میں شرم و حیا ختم ہو گئ ہے بھائ کی بہن دوستوں کے ساتھ جہاں جائے کوئ روک تھام نہیں عورت کو ہم نے پورن انڈسٹری میں پہنچا کر اسے آزادی نسواں دی ۔اب دیکھو عورت یورپ میں اپنی من چاہی زندگی گزار کر ہماری پالیسی کی آئینہ دار ہے اور یہی ہماری کامیابی ہے اور یہی ہمارا مشن ہے جو ہر دن مزید سے مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے ۔۔


آج کی اگلی سو سالہ پالیسی یہ ہے کہ اب آپ نے اہل مسلم خواتین کے دماغوں میں تحریک آزادی کا تخیل دینا ہے تاکہ وہ حدود و قیود اور حجاب جیسی گھٹیا اور روایتی انداز کو توڑ دے تاکہ مسلم خواتین سب سے پہلے ایک خاوند کی بیوی کہلانے سے نکلے اور اسے یہ حق دینے کی تقویت دینی ہے کہ۔۔۔۔ میرا جسم میری مرضی۔۔۔ اور اس جیسے شاندار نعرے اس کی روح تک اتار دینے ہیں۔ اور کچھ میرے پیروکار نے مزید Tikokاور BIGO LIV جیسے نئے راستوں سے مزید روشناس کرانا ہے کیونکہ ہم جب تک بے حیائی اور برہنہ تراکیب کو عام نہیں کریں گے اسلام کی بنیاد کمزور نہیں ہو گی اس کے لیے مزید پورن گرافی کو عام کرو۔یہی وہ راستہ جس کے ذریعے اس اسلام کو نیست و نابود کیا جا سکتا ہے۔

تاکہ یہ جنسی تحریک دماغوں میں رچ بس جائے۔ خاندانی رشتوں کی تمیز ختم ہو ۔اس مشن کی پہلی کامیابی یہ ہو گی کہ جب بہن بھائی میں جنسی

گفتگو میں کوئی ہچکچاہٹ نہ ہو تو سمجھو کہ ہم کامیاب ہو رہے ہیں ۔ہمارا یہ مشن اس صدی میں مقبول ترین ہو گا کیونکہ میری آنکھیں آنے والے زمانے میں بہت کامیابیاں دیکھ رہی ہیں آپس میں اتفاق میں رہنا اہل مسلم کی طرح تفرقوں سے دور رہنا اور اپنے مشن سے پیچھے نہ ہٹنا کیونکہ اگر اسلام مضبوط ہو گیا تو ہمارا نام و نشان مٹ جائے گا ۔۔


اس آرٹیکل کو ضرور شیئر کیجئے تاکہ اپنے حصے کی شمع جلائی جا سکے ۔۔


تحریر :

شفقت سجاد دشتی

‎@balouch_shafqat

7 views0 comments